Al-SaalimTourism
SAGAMNER, MAHARASHTRA, INDIA
Back to Blog Forx Treding Halal / Haram . فوریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام

Forx Treding Halal / Haram . فوریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام

Mufti Saalim khan ishaati Darul Ifta Sangamner / دار الافتاء سنگم نیر 10 Aug 2026 109 views

*فاریکس ٹریڈنگ (Forex Trading)کا شرعی جائزہ*

*✍🏻حماد الرحمٰن جموی*

فاریکس ٹریڈنگ (Forex Trading) کا مطلب ہے "دنیا کے مختلف ممالک کی کرنسیوں کا لین دین کرنا" ۔ "Forex" دراصل "Foreign Exchange" کا مخفف ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مالیاتی مارکیٹ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس کا یومیہ ٹرن اوور تقریباً 9.6 ٹریلین ڈالر ہے۔

فاریکس ٹریڈنگ میں مختلف ممالک کی کرنسیوں کے ساتھ ساتھ commodities جیسے: سونا ، چاندی اور crude oil وغیرہ کو بھی بنیاد بنا کر نفع کمایا جاتا ہے۔ لیکن زیادہ تر اس میں کرنسی کو ہی ایکسچینج کیا جاتا ہے۔ 
بنیادی طور پر اگر کوئی شخص ان چیزوں کی خرید و فروخت کرے اور روپے دے کر ڈالر حاصل کرے يا ڈالر دے کر کوئی دوسری کرنسی حاصل کرے اور اس كو اپنى ملكيت (ownership) ميں لے کر اس طور پر قبضہ بھی كرلے كہ جيسے چاہے استعمال كرسكے اور جب چاہے كسى دوسرے كو فروخت بھی كر سكے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ ليكن آنلائن فاریکس ٹریڈنگ کا طریقۂ کار اس سے بالکل مختلف ہے ۔

*آنلائن فاریکس ٹریڈنگ کا طريقِ كار:* 
آنلائن فاریکس ٹریڈنگ میں یہ ہوتا ہے کہ مثلاً: کسی شخص کاEx-ness پر اکاؤنٹ ہے اور وہ EUR/USD (یورو/ یو ایس ڈی) کی ٹریڈ اوپن کرتا ہے (یعنی یورو دے کر ڈالر خریدتا ہے)، اب چونکہ اس نے ڈالر خرید لیے ہیں تو یہ ڈالر اس کے اکاؤنٹ میں آجانے چاہییں ،خواہ وہ Ex-ness کا ہی اکاؤنٹ کیوں نہ ہو۔ اور ٹریڈر جب چاہے کسی دوسرے اکاؤنٹ میں ڈالر ٹرانسفر کرکے ان کو کسی بھی طرح استعمال کر سکے۔ 
لیکن فاریکس ٹریڈنگ میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ خریدار (trader) کے پاس یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ خریدی ہوئی کرنسی (مذکورہ مثال میں ڈالر) کو اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر سکے، بلکہ اس کے پاس صرف یہی اختیار ہوتا ہے کہ وہ ٹریڈ  close (ختم) کر کے نفع یا نقصان سمیت یورو واپس لے لے۔ یعنی ٹریڈر کے اکاؤنٹ میں ڈالر حقیقتاً داخل نہیں ہوتے بلکہ صرف نفع یا نقصان کا حساب برابر کرنے کے لیے ايک Virtual Entry كى جاتى ہے، کہ اگر ڈالر کے مقابلے میں یورو کی قیمت بڑھ گئی تو زیادہ یورو ملیں گے اوراگر یورو کی قیمت کم ہو گئی تو اس کو کم یورو ملیں گے۔ یعنی آخر میں اس کو یورو ہی واپس ملیں گے، ڈالر کو صرف نفع و نقصان برابر کرنے کے لیے ظاہر کیا جاتا ہے ۔
اسی طرح فاریکس ٹریڈنگ میں ديگر اجناس(commodities) جیسے سونا چاندی، خام تیل وغیرہ کو بھی بنیاد بنا کر فرق برابر كركے پيسے كمائے جاتے ہیں۔ حقیقت میں ان كو خریدا جاتا ہے اور نہ ہی بیچا جاتا ہے، بروکر کے پاس یہ اجناس حسی طور پر موجود بھی نہیں ہوتی ہیں۔ نیز خریدار کو بھی یہ اختیار نہیں ہوتا کہ ان کی ڈیلیوری حاصل کرسکے۔

*شرعی حکم:* 
خرید و فروخت کے معاملات میں شرط یہ ہے کہ جن اشیاء کی خرید وفروخت  ہو رہی ہو معاملہ طے پاتے وقت ان کا وجود قطعی ویقینی ہو اور ان کی معدومیت (ناپیدگی) کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ مبیع معلوم و متعین ہو اور مبیع  آگے فروخت کرنے سے پہلے اس مبیع پر باقاعدہ قبضہ کر کے اپنے ضمان اور تحویل میں لیا جائے۔ نیز مختلف ممالک کی کرنسیوں کے باہمی تبادلہ میں شرط یہ ہے کہ مجلس عقد میں احد البدلین(دونوں میں سے ایک) پر قبضہ ہو جائے۔ چنانچہ دونوں میں  سے کسی ایک پر بھی اگر قبضہ نہ ہو تو بیع ناجائز ہوگی۔

فاریکس ٹریڈنگ کی بیان کردہ تفصیلات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مروجہ فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے درج ذیل متعدد شرعی خرابیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں:-
1. دو مختلف ممالک کی کرنسی کی خرید و فروخت کے وقت مجلسِ عقد(contract session) ہی میں کسی ایک کرنسی پر قبضہ کرنا شرط ہے۔ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ یہ معاملہ واقعی و حقیقی ہے اور خریدار و فروخت کنندہ میں سے ہرایک کو اپنا عوض مطلوب ہے۔ جبکہ فاریکس ٹریڈنگ میں خریدی ہوئی کرنسی پر قبضہ نہیں ہوتا ہے، بلکہ محض اسکرین پر نمبروں کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر نفع و نقصان برابر کیاجاتا ہے۔ 
2. فاریکس ٹریڈنگ میں کرنسی، سونا چاندی اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت مقصود نہیں ہوتی اور نہ ان ساری اشیاء کا حقیقی وجود ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بیع معدوم (غیر موجود چیز کی خرید و فروخت) کا تصور پایا جاتا ہےجو کہ ناجائز ہے۔
3. فاریکس ٹریڈنگ کے طریق کار سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ فاریکس ٹریڈنگ میں خریداری نہیں ہو رہی ہے کیونکہ کسی چیز کو نہ خریدا جا رہا ہے اور نہ ہی بیچا جا رہا ہے، بلکہ صرف کرنسی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ پر اندازه (speculation) كركے نفع یا نقصان برابر کیا جا رہا ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے جب کوئی کرکٹ میچ ہو رہا ہوتا ہے تو ایک آدمی کہتا ہے کہ اس میچ میں آسٹریلیا کی ٹیم جیتے گی اور دوسرا کہتا ہے کہ انڈیا کی ٹیم جیتے گی اور دونوں ایک ایک لاکھ کی شرط لگا دیتے ہیں۔ اگر آسٹریلیا کی ٹیم انڈیا کی ٹیم کے مقابلے میں جیت جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم کے سپورٹر کو دو لاکھ مل جائیں گے اور انڈیا کی ٹیم کے سپورٹر کو کچھ نہیں ملے گا۔ 
اب اگر کسی سے پوچھا جائے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ تو ظاہری اور سطحی نظر رکھنے والا شخص بھی یہی کہے گا کہ یہ "جوا" کھیلا جا رہا ہے۔ کوئی بھی اس کو ٹریڈ یا خرید و فروخت نہیں کہے گا، کیونکہ یہاں پر کوئی خریداری نہیں ہو رہی ہے، بلکہ مستقبل میں ہونے والے واقعے (Future event) کی بنیاد پر پیسے لگائے جا رہے ہیں۔ 
بالکل اسی طرح فاریکس ٹریڈنگ میں بھی صرف کرنسی يا ديگر اجناس(commodities) کو بنیاد بنا کر فرق برابر كركے پيسے كمائے جاتے ہيں۔ حقیقت میں نہ تو كرنسى يا سونا چاندي وغيره كو خریدا جاتا ہے اور نہ ہی بیچا جاتاہے، اس کو CFD (contact for diffrence) کہا جاتا ہے ۔
4. اسی طرح فاریکس ٹریڈنگ میں بروکر کا لیوریج پر مزید رقم حاصل کرنا بھی بھی سودی لین دین میں شمار ہوگا۔ کیوں کہ فاریکس ٹریڈنگ میں کرنسیوں کی لین دین چھوٹی مقدار میں نہیں ہوتی، بلکہ بڑے بڑے لاٹ کی شکل میں ہوتی ہے، جن کی قیمت ادا کرنا ہر آدمی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس لیے ایسی صورت میں بروکر کی طرف سے بڑی مقدار میں لیوریج دیا جاتا ہے۔ مثلاً: اگر کسی کے پاس صرف دس ہزار ڈالر ہیں اور وہ ایک لاکھ ڈالرکا لاٹ خریدنا چاہتا ہے، جس کے لیے دس ہزار ڈالر ناکافی ہیں تو بروکر کی طرف سے ٹریڈر کو نوے ہزار ڈالر لیوریج کے طور پر مل جاتے ہیں۔ اب ٹریڈر ایک لاکھ ڈالر لگا کر ٹریڈ کرسکتا ہے۔
بروکر اس شرط پر یہ لیوریج دیتا ہے کہ ہر ٹریڈ میں وہ اپنا کمیشن بھی رکھے گا۔ اس طرح بروکر کا لیوریج پر اضافی رقم لینا قرض پر سود لینا ہے (خواہ اسے کمیشن کا نام دیا جائے) جو كہ حرام اور نا جائز ہے۔
5. فاریکس ٹریڈنگ میں ایک شرعی خرابی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اس میں بروکر کی طرف سے یہ شرط ہوتی ہے کہ ٹریڈر کو ایک ہی دن / یا ایک معینہ وقت کے اندر ٹریڈ کو کلوز کرنا پڑے گا ، بصورت دیگر بروکر ہر دن کے حساب سے swap charges وصول کرتا ہے، یہ ایک ایسی شرط ہے جو سراسر مبنی بر ظلم ہے اور ناحق طریقے سے دوسرے کے مال کو ہڑپ کرنا ہے۔ لہٰذا ایسی شرط لگانا بھی ناجائز ہے ۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مذکورہ تمام مفاسد کی بنیاد پر فاریکس ٹریڈنگ شرعاً ناجائز و حرام ہے۔ لہٰذا مسلمان ہونے کی حیثیت سے  لازم ہے کہ حلال ذرائع آمدن اختیار کئے جائیں، تاکہ نیک اعمال کی توفیق اور فلاح دارین نصیب ہو ۔

*نوٹ:* 
فاریکس ٹریڈنگ کے نام سے متعدد جعلسازی پر مبنی اپلی کيشن بھی ہوتے ہیں جو لوگوں سے ٹریڈنگ کے نام پر رقم لوٹ کرفرار ہوجاتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس طرح کے اپلی کیشنز کو بلاک بھی کیا جاچکا ہے اور عوام کو ایسے اپلی کیشنز سے دور رہنے کو کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس میں شرعی ممانعت کے ساتھ ساتھ قانونی جرم بھی ہے۔ لہٰذا اس سے بدرجۂ اولیٰ احتیاط لازم ہے ۔
+91 8899275468

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

اگر آپ بھی عمرے کو جانا چاہتے ہیں تو ابھی اس نمبر پر رابطہ کریں 

9730978612