بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عنوان: شعبہ امامت مجروح ہو چکا ہے ، ائمہ حضرات کو خود کفیل بننے کی اشد ضرورت
از قلم: مفتی سالم خان اشاعتی، سنگم نیر (رابطہ نمبر: 9730978612)
منصبِ امامت دینِ اسلام کا ایک مقدس، عظیم الشان اور نبی کریم ﷺ کی نیابت کا جلیل القدر مقام ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں امامت کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں اور امام کو قوم کا ضامن اور رہبر قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "امام ضامن ہے اور مؤذن امانت دار، اے اللہ ائمہ کی رہنمائی فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما۔" اللہ کے رسول ﷺ اور خلفائے راشدین نے بذاتِ خود مصلّائے امامت کو رونق بخشی اور امت کی قیادت فرمائی۔ امامت کا شوق اور مصلّے کی خدمت حقیقت میں انبیائے کرام کی وراثت اور اخروی نجات کا عظیم ذریعہ ہے۔
لیکن انتہائی افسوس اور حسرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ دور میں امامت کا شعبہ سخت مجروح اور بے وقعت ہو چکا ہے۔ مسجدوں کے محراب و منبر کو جہاں سے عزت، وقار اور خودداری کی خوشبو آنی چاہیے تھی، آج وہاں بے بسی کا راج ہے۔ امامت کے اس مقدس پیشے کو جدید معاشرے اور نااہل نظام نے بری طرح ایکسپوز اور رسوا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس زوال کی سب سے بڑی وجہ مساجد کے متولیان، نام نہاد کمیٹیوں اور ٹرسٹیز کا ظالمانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ آج مساجد کی سنگِ مرمر کی عالی شان عمارتوں، قمقموں اور جھاڑ فانوس پر لاکھوں کروڑوں روپے بے دریغ بہائے جاتے ہیں۔ مگر اسی مسجد کے امام کے لیے چند ہزار روپے کی معمولی اور حقیر تنخواہ دیتے ہوئے متولیوں کے ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں۔
آج کل کے اس ہوش ربا مہنگائی کے دور میں ایک امام کو پانچ سے آٹھ ہزار روپے دے کر اس پر احسان جتایا جاتا ہے۔ یہ قلیل مشاہرہ ایک مزدور کی یومیہ اجرت سے بھی کم ہے، جس میں ایک فرد کا ہفتہ بھر کا راشن بھی بمشکل آتا ہے۔ امامِ مسجد کی غربت اور کسمپرسی اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے مناسب دودھ اور دوا کا انتظام نہیں کر پاتا۔ بیماری کی حالت میں امام کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہوتے اور وہ قرض کے بوجھ تلے گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبور ہے۔ بچوں کے اسکول و مدرسے کی فیس، گھر کا کرایہ اور بنیادی ضروریات کے آگے امام کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تیرتے ہیں۔
اتنی کم تنخواہ پر بھی ٹرسٹیز کا امام کے ساتھ برتاؤ ایک حاکم اور غلام جیسا ہوتا ہے، جس سے انسانیت بھی شرما جائے۔ کمیٹی کا ہر ادنیٰ اور جاہل فرد امام پر رعب جھاڑنا اور اس کی عزتِ نفس کو پامال کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ ذرا سی تاخیر، کسی جائز رخصت یا معمولی بات پر امام کو نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ مسجد کا ذمہ دار طبقہ امام کو مقتدیوں کا پیشوا نہیں بلکہ چند ٹکوں کا ملازم اور محتاج خادم سمجھ کر ذلیل کرتا ہے۔ اسی ذلت آمیز رویے اور فاقہ کشی نے ائمہ کے وقار کو خاک میں ملا دیا ہے اور ان کی زبانوں پر حق گوئی کے تالے لگا دیے ہیں۔ جب امام اپنی معاشی ضروریات کے لیے کمیٹی کے چندوں اور چند روپوں کا محتاج ہوگا تو وہ حق بات کیسے کہہ پائے گا؟
اس دلدوز اور افسوسناک صورتِ حال نے امامت جیسے مقدس فریضے کو ایک لاچار اور مجبور طبقے کا پیشہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ علماء کرام اور حفاظِ عظام اس ذلت آمیز نظام اور محتاجی کی زنجیروں کو توڑ پھینکیں۔ شریعتِ مطہرہ اور اسلافِ امت کی تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ علم اور منصبِ دین کو کبھی سوال کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ اور دیگر اکابرینِ امت نے ہمیشہ تجارت اور محنتِ دست کو ترجیح دی اور کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ لہٰذا آج کے دور کا سب سے بڑا انقلابی اور ضروری تقاضا یہ ہے کہ علماء کرام اور ائمہ حضرات معاشی طور پر خود کفیل بنیں۔
علماء کو چاہیے کہ وہ حلال تجارت، دکانداری، کاروبار، ہنر، زراعت یا فری لانسنگ کے ذریعے اپنی روزی خود کمائیں۔ حلال کمائی کے لیے موٹر سائیکل پر سامان بیچنا، فیری لگانا یا محنت مزدوری کرنا باعثِ فخر ہے، نہ کہ باعثِ عار۔ اپنے ہاتھوں کی کمائی سے پیٹ بھرنا انبیائے کرام علیہم السلام کی مبارک سنت ہے جس میں برکت اور عزتِ نفس ہے۔ جب ایک عالمِ دین معاشی طور پر مستحکم اور خود کفیل ہوگا تو اس کا ماتھا کسی متولی یا کمیٹی کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔ خود کفالت کے بعد ائمہ کرام کو چاہیے کہ وہ مساجد میں امامت کا فریضہ اللہ کی رضا کے لیے بالکل بلا معاوضہ انجام دیں۔
جب امامت فی سبیل اللہ اور بغیر کسی مشاہرے کے ہوگی، تو منصبِ امامت کا کھویا ہوا تقدس اور وقار دوبارہ لوٹ آئے گا۔ مصلّے پر کھڑا ہونے والا امام جب کسی سے ایک روپیہ بھی نہیں لے گا تو مسجد کی کمیٹیوں کی چودھراہٹ اور فرعونیت دم توڑ دے گی۔ کسی جاہل متولی یا مغرور ٹرسٹی کو یہ جرات نہیں ہوگی کہ وہ امامِ مسجد کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے یا ڈکٹیٹ کرے۔ فری امامت کرنے سے مصلّے کا وقار بلند ہوگا اور مقتدیوں کے دلوں میں امام کی سچی اور بے لوث عزت پیدا ہوگی۔ بے لوث خدمت سے نمازوں اور دعاؤں میں وہ روحانیت اور اخلاص پیدا ہوگا جو پیسوں کی بندش سے ختم ہو چکا تھا۔
امام جب معاشی طور پر آزاد ہوگا تو منبر و محراب سے بلا خوف و خطر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حق ادا کر سکے گا۔ ملت کے امیر اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کو بھی آئینہ دکھایا جا سکے گا اور باطل کے سامنے سر نہیں جھکے گا۔ اس عمل سے نوجوان نسل کے اندر بھی علماء اور ائمہ کے تئیں احترام، عظمت اور دینی قیادت کا اعتماد بحال ہوگا۔ ہم مساجد کے ان بے حس اور سنگ دل ٹرسٹیان کو بھی سخت تنبیہ کرتے ہیں جو ائمہ کے حقوق غصب کر کے خود کو مالک سمجھتے ہیں۔ خدا کے گھر کے خزانوں پر قابض ہو کر ائمہ کو فاقہ کشی پر مجبور کرنے والوں کو اللہ کے سخت عذاب سے ڈرنا چاہیے۔
مسجد کے پیسوں سے زیبائش تو کی جاتی ہے مگر محراب کے نگہبان کو بھوکا مارنا کھلی خیانت اور ظلمِ عظیم ہے۔ لیکن اب علماء کو ان کے رحم و کرم پر جینے کی قطعی ضرورت نہیں، بلکہ اپنی معاشی خودداری کا علم بلند کرنا ہوگا۔ ہمارے ائمہ اپنے خون پسینے سے حلال رزق کمائیں، اپنے بچوں کو باوقار زندگی دیں اور مصلّے پر بے لوث رہنمائی فرمائیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم امامت کو تجارت یا معاشی مجبوری کا ذریعہ نہیں بننے دیں گے بلکہ اسے خالص عبادت اور شرف بنائیں گے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے متولیوں کی منتیں کرنے کے بجائے تجارت کے میدان میں اتریں اور فقر و خودداری کا مجسمہ بنیں۔
جس دن ہمارے ائمہ خود کفیل ہو کر مصلّے پر بلا معاوضہ کھڑے ہو گئے، اسی دن اسلام کی دینی قیادت کا حقیقی وقار بحال ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ تمام علماء اور ائمہ کو عزت، غیرت، رزقِ حلال میں برکت اور استغناء کا بلند مقام عطا فرمائے۔ اور مساجد کے ذمہ داران کو اپنی روش بدلنے اور اہلِ علم کا جائز احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔