Al-SaalimTourism
SAGAMNER, MAHARASHTRA, INDIA
بلاگ پر واپس Hajar e aswad ki history  /  حجر اسود کی مکمل تاریخ ۔۔

Hajar e aswad ki history / حجر اسود کی مکمل تاریخ ۔۔

Mufti saalim khan اسلامی تاریخ 01 Aug 2026 140 ویوز

.. حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

..حصہ اول

حجرِ اسود خانۂ کعبہ کے مشرقی کونے میں نصب وہ مبارک پتھر ہے جس سے طواف کا آغاز اور اختتام کیا جاتا ہے۔ یہ اسلام کے عظیم ترین مقدسات میں شمار      ہوتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اس سے قلبی محبت رکھتے ہیں۔ حج اور عمرہ کے دوران لاکھوں مسلمان اس کا استلام کرتے ہیں یا اگر ہجوم زیادہ ہو تو دور ہی سے اس کی طرف اشارہ کرکے "اللہ اکبر" کہتے ہیں۔ حجرِ اسود کی عظمت اس لیے نہیں کہ وہ بذاتِ خود نفع یا نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا استلام فرمایا اور امت کو بھی اس کی تعلیم دی۔

حجرِ اسود کی اصل فضیلت یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے جنت سے زمین پر نازل فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حجرِ اسود جنت سے نازل ہوا، وہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا، پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔" یہ حدیث Jami' at-Tirmidhi، Musnad Ahmad اور دیگر کتبِ حدیث میں مروی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حجرِ اسود کا اصل رنگ سفید تھا، مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت انسانوں کے گناہوں کے اثر سے اس کا رنگ سیاہ ہوگیا۔

اسلام میں حجرِ اسود کی تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی ہے۔ مسلمان اس پتھر کی عبادت نہیں کرتے اور نہ ہی اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں۔ اس حقیقت کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا۔ جب آپ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا تو فرمایا: "میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔" یہ روایت Sahih al-Bukhari اور Sahih Muslim میں موجود ہے۔ اس فرمان سے اسلام کا عقیدہ پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، جبکہ حجرِ اسود کا احترام سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع ہے۔

بعض تاریخی روایات میں حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے کا ذکر بھی ملتا ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ کعبہ کی ابتدائی تعمیر کے ساتھ حجرِ اسود بھی موجود تھا، لیکن یہ روایات زیادہ تر آثار اور تاریخی نقل پر مبنی ہیں اور صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ اسی لیے محدثین اور محققین نے ان کے بارے میں احتیاط اختیار کی ہے۔ مستند طور پر اتنا ہی ثابت ہے کہ حجرِ اسود جنت سے نازل کیا گیا اور بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب کعبہ کی تعمیر فرمائی تو اسے اس کے موجودہ مقام پر نصب کیا۔ اس واقعے کی تفصیل Tarikh Makkah اور Akhbar Makkah میں مذکور ہے۔

حجرِ اسود صرف ایک تاریخی پتھر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا استلام فرمایا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی پیروی کی، اور آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اسی سنت کو زندہ رکھتے ہیں۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حجرِ اسود کو ایسی قوت عطا فرمائے گا کہ وہ آنکھوں سے دیکھے گا اور زبان سے بولے گا، اور جن لوگوں نے اخلاص کے ساتھ اس کا استلام کیا ہوگا ان کے حق میں گواہی دے گا۔ یہ روایت Jami' at-Tirmidhi میں مذکور ہے۔

حجرِ اسود کی تاریخ دراصل خانۂ کعبہ کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے بعد کا سب سے اہم مرحلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھوں بیت اللہ کی تعمیر اور حجرِ اسود کی تنصیب کا ہے، جس نے اس مبارک پتھر کو قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے قبلۂ عشق اور سنتِ نبوی ﷺ کی یادگار بنا دیا۔

(جاری ہے: حصہ دوم — حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور کعبہ کی تعمیر کے ساتھ حجرِ اسود کی تنصیب)

حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

حصہ دوم: حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حجرِ اسود کی تنصیب

حضرت آدم علیہ السلام کے بعد زمانے گزرتے رہے، یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام کا عظیم طوفان آیا۔ مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ اس طوفان کے بعد بیت اللہ کی قدیم عمارت کے آثار مٹ گئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس مقدس مقام کو محفوظ رکھا۔ بعد ازاں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تو انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اس مقدس مقام پر دوبارہ بیت اللہ کی تعمیر کریں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے تو دعا کر رہے تھے: اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔" (سورۃ البقرہ: 127)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر کعبہ کی دیواریں تعمیر کیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر لا کر دیتے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں دیوار میں لگاتے جاتے تھے۔ جب دیوار کی اونچائی بڑھ گئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک پتھر پر کھڑے ہو گئے، جس پر ان کے قدموں کے نشانات محفوظ رہ گئے۔ یہی پتھر آج مقامِ ابراہیم کے نام سے معروف ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہونے کے قریب پہنچی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ کوئی ایسا ممتاز پتھر تلاش کرو جو اس عمارت کی نشانی بنے۔ اسی دوران حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے جنت سے لایا ہوا حجرِ اسود لے کر حاضر ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مبارک پتھر کو بیت اللہ کے مشرقی کونے میں نصب فرمایا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آج بھی حجرِ اسود موجود ہے۔ اس واقعے کی تفصیل Tarikh Makkah اور Akhbar Makkah میں مذکور ہے۔

حجرِ اسود کی تنصیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اعلان کیا، اور اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو تمام انسانوں تک پہنچا دیا۔ اسی اعلان کا اثر ہے کہ ہر دور میں دنیا کے مختلف علاقوں سے مسلمان بیت اللہ کی زیارت اور حج و عمرہ کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کے بعد صدیوں تک کعبہ اپنی اصل بنیادوں پر قائم رہا۔ مختلف قبائل اس کی خدمت اور نگہداشت کرتے رہے۔ عرب کے لوگ اگرچہ بعد میں شرک میں مبتلا ہوگئے اور کعبہ میں بت رکھ دیے، لیکن اس کے باوجود وہ حجرِ اسود کا احترام کرتے تھے اور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار سمجھتے تھے۔ اس طرح حجرِ اسود کی عظمت زمانۂ جاہلیت میں بھی لوگوں کے دلوں میں باقی رہی، اگرچہ ان کے عقائد میں بہت سی خرابیاں آچکی تھیں۔

کعبہ کی دیواروں کو وقتاً فوقتاً سیلاب اور موسمی اثرات سے نقصان پہنچتا رہا، لیکن ہر مرتبہ اہلِ مکہ اس کی مرمت کرتے تھے۔ حجرِ اسود کو ہمیشہ انتہائی حفاظت کے ساتھ اس کی جگہ پر برقرار رکھا جاتا تھا، کیونکہ وہ بیت اللہ کا سب سے مقدس حصہ سمجھا جاتا تھا۔

یہی وہ تاریخی پس منظر تھا جس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی نبوت سے چند سال پہلے قریش نے کعبہ کی ازسرِ نو تعمیر کی۔ اسی تعمیر کے دوران حجرِ اسود کی تنصیب پر قبائل کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوا، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد ﷺ کے ذریعے نہایت حکمت اور عدل کے ساتھ ختم فرمایا۔ یہ واقعہ سیرتِ نبوی کا ایک روشن باب ہے، جس کی تفصیل حصہ سوم میں بیان کی جائے گی۔

مراجع:

Quran (سورۃ البقرہ: 125–127)
Tarikh Makkah
Akhbar Makkah
Al-Bidayah wa al-Nihayah

حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

حصہ سوم: زمانۂ جاہلیت، تعمیرِ کعبہ اور رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک سے حجرِ اسود کی تنصیب

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد کئی صدیوں تک بیت اللہ اپنی جگہ قائم رہا۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ مختلف قبائل نے اس کی دیکھ بھال کی، لیکن مسلسل بارشوں، سیلابوں اور دیگر قدرتی عوامل کی وجہ سے عمارت کمزور ہونے لگی۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ مکرمہ میں ایک شدید سیلاب آیا جس نے کعبہ کی دیواروں کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد قریش نے باہمی مشورے سے بیت اللہ کی ازسرِ نو تعمیر کا فیصلہ کیا۔

قریش نے اس تعمیر میں خاص احتیاط برتی۔ انہوں نے یہ عہد کیا کہ کعبہ کی تعمیر میں صرف پاک اور حلال مال ہی استعمال کیا جائے گا۔ سود، چوری، ظلم اور ناجائز کمائی کا مال اس مقدس عمارت میں استعمال نہ کیا جائے۔ چونکہ حلال مال مطلوبہ مقدار میں جمع نہ ہو سکا، اس لیے تعمیر کے وقت پوری عمارت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر نہ ہو سکی، بلکہ شمالی جانب کا ایک حصہ باہر رہ گیا، جو آج حِجرِ اسماعیل یا حطیم کے نام سے معروف ہے۔

جب تعمیر مکمل ہونے کے قریب پہنچی تو حجرِ اسود کو اس کی جگہ نصب کرنے کا وقت آیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں مختلف قبائل کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوگیا۔ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یہ عظیم سعادت اسے حاصل ہو، کیونکہ وہ اسے اپنے لیے سب سے بڑا اعزاز سمجھتے تھے۔ اختلاف اس قدر بڑھا کہ نوبت جنگ تک پہنچ گئی اور کئی دن تک یہ کشیدگی جاری رہی۔

آخرکار قریش کے ایک بزرگ، ابو اُمیہ بن مغیرہ نے یہ تجویز پیش کی کہ مسجدِ حرام کے دروازے سے جو شخص سب سے پہلے داخل ہو، اسی کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے۔ تمام قبائل نے اس تجویز کو قبول کر لیا اور انتظار کرنے لگے۔

اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ سب سے پہلے مسجدِ حرام میں داخل ہونے والی ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تھی۔ آپ ﷺ اس وقت ابھی نبوت سے سرفراز نہیں ہوئے تھے، لیکن اپنی سچائی، دیانت اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے پورے مکہ میں "الصادق" اور "الامین" کے لقب سے مشہور تھے۔ جونہی لوگوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو خوشی سے پکار اٹھے: "یہ تو امین ہیں، ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں۔"

رسول اللہ ﷺ نے نہایت حکمت، بصیرت اور عدل کے ساتھ ایسا فیصلہ فرمایا جس نے ہمیشہ کے لیے قبائلی جھگڑے کو ختم کر دیا۔ آپ ﷺ نے اپنی چادر مبارک زمین پر بچھائی، حجرِ اسود کو اپنے دستِ مبارک سے اس پر رکھا، پھر ہر بڑے قبیلے کے ایک نمائندے کو چادر کا ایک کنارہ پکڑنے کا حکم دیا۔ تمام قبائل نے مل کر حجرِ اسود کو اس کے مقام تک پہنچایا۔ جب وہ اپنی جگہ کے قریب پہنچ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے حجرِ اسود کو اٹھا کر کعبہ کے مشرقی کونے میں نصب فرما دیا۔

یہ ایسا دانشمندانہ فیصلہ تھا جس سے تمام قبائل مطمئن ہوگئے، کسی کی دل آزاری نہ ہوئی اور خونریزی کا خطرہ بھی ٹل گیا۔ یہی واقعہ رسول اللہ ﷺ کی غیر معمولی حکمت، معاملہ فہمی اور قیادت کا روشن ثبوت ہے، جو نبوت سے پہلے ہی آپ کی عظیم شخصیت کو نمایاں کرتا ہے۔

اس تاریخی واقعے کو سیرت اور تاریخ کی مستند کتابوں میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جن میں Sirat Ibn Hisham، Tarikh al-Tabari، Al-Bidayah wa al-Nihayah اور Tarikh Makkah شامل ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف حجرِ اسود کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے بلکہ اس بات کی بھی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو نبوت سے پہلے ہی ایسی حکمت اور عظمت عطا فرمائی تھی جس کا اعتراف دوست اور دشمن سبھی کرتے تھے۔

نبوت ملنے کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ نے حجرِ اسود کا استلام فرمایا، اس کا بوسہ لیا اور امت کو بھی اس کی سنت سکھائی۔ فتح مکہ کے موقع پر جب بیت اللہ کو بتوں سے پاک کیا گیا تو حجرِ اسود اپنی اسی جگہ پر موجود تھا، جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے نصب کیا تھا اور جہاں رسول اللہ ﷺ نے قریش کی تعمیر کے دوران دوبارہ اپنے دستِ مبارک سے نصب فرمایا۔

جاری ہے: حصہ چہارم — فتحِ مکہ، حجرِ اسود کے فضائل، قرامطہ کا حملہ، موجودہ حالت اور تاریخی مرمتیں۔

حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

حصہ چہارم: فتحِ مکہ، حجرِ اسود کے فضائل، قرامطہ کا حملہ اور موجودہ حالت

رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے آٹھویں سال فتحِ مکہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہو کر کعبہ کو بتوں سے پاک فرمایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے طواف کیا اور حجرِ اسود کا استلام فرمایا۔ یہی وہ مبارک پتھر تھا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نصب کیا تھا اور جسے نبوت سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے دوبارہ اس کی جگہ پر رکھا تھا۔ فتحِ مکہ کے بعد حجرِ اسود اپنی اصل جگہ پر باقی رہا اور قیامت تک اسی مقام پر رہنے کی بشارت امت کو دی گئی۔

رسول اللہ ﷺ جب بھی طواف فرماتے تو حجرِ اسود کا استلام کرتے، کبھی اسے بوسہ دیتے، کبھی اپنے دستِ مبارک سے چھوتے اور پھر ہاتھ کو بوسہ دیتے، اور اگر زیادہ ہجوم ہوتا تو دور ہی سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے "اللہ اکبر" فرماتے۔ یہی طریقہ آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے سنت ہے۔ فقہائے اسلام نے واضح کیا ہے کہ اگر حجرِ اسود تک پہنچنے میں دوسروں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو دور سے اشارہ کرنا ہی افضل ہے، کیونکہ اسلام کسی مسلمان کو اذیت پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔

حجرِ اسود کی فضیلت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حجرِ اسود کو ایسی قوت عطا فرمائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا، اور وہ ان لوگوں کے حق میں گواہی دے گا جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اس کا استلام کیا ہوگا۔ یہ حدیث Jami' at-Tirmidhi اور دیگر کتبِ حدیث میں مذکور ہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مشہور فرمان بھی حجرِ اسود کی صحیح اسلامی حیثیت کو واضح کرتا ہے۔ آپ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا: "میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔" یہ روایت Sahih al-Bukhari اور Sahih Muslim میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حجرِ اسود کا احترام صرف رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی میں کیا جاتا ہے، نہ کہ اس میں کسی قسم کی الوہیت یا ذاتی تاثیر کا عقیدہ رکھا جاتا ہے۔

حجرِ اسود کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ 317 ہجری (930ء) میں پیش آیا، جب قرامطہ نامی ایک گمراہ فرقے نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا۔ انہوں نے مسجدِ حرام کے تقدس کو پامال کیا، ہزاروں حجاج کرام کو بے دردی سے شہید کیا اور حجرِ اسود کو اس کی جگہ سے اکھاڑ کر بحرین لے گئے۔ مؤرخین کے مطابق حجرِ اسود تقریباً بائیس برس تک مکہ مکرمہ سے دور رہا۔ اس دوران مسلمان شدید غم اور اضطراب میں مبتلا رہے، لیکن بیت اللہ کا طواف بدستور جاری رہا۔

بالآخر 339 ہجری (951ء) میں قرامطہ نے حجرِ اسود کو واپس کر دیا اور اسے دوبارہ اسی مقام پر نصب کیا گیا جہاں وہ پہلے موجود تھا۔ اس واقعے کی تفصیل Al-Kamil fi al-Tarikh اور Al-Bidayah wa al-Nihayah میں بیان ہوئی ہے۔

صدیوں کے دوران مختلف قدرتی عوامل اور تاریخی واقعات کے باعث حجرِ اسود میں دراڑیں پڑ گئیں اور وہ کئی چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ بعد میں ان ٹکڑوں کو نہایت مضبوط مادے کے ذریعے جوڑ کر محفوظ کیا گیا اور ان کے گرد چاندی کا ایک مضبوط حلقہ نصب کیا گیا تاکہ انہیں مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ آج زائرین کو جو حجرِ اسود نظر آتا ہے، وہ انہی محفوظ کیے گئے ٹکڑوں پر مشتمل ہے، جو چاندی کے فریم میں جڑے ہوئے ہیں۔

ہر سال لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کے دوران حجرِ اسود کا استلام کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ اگر موقع ملے تو اسے بوسہ دیتے ہیں، ورنہ سنت کے مطابق دور سے ہاتھ اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے "اللہ اکبر" کہتے ہیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور جس پر چودہ سو سال سے امتِ مسلمہ عمل کرتی آرہی ہے۔

حجرِ اسود صرف ایک تاریخی پتھر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس کی تاریخ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور پوری امتِ مسلمہ کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ مسلمانوں کو توحید، اتباعِ سنت اور بیت اللہ سے محبت کا پیغام دیتا ہے۔ اس کا احترام دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کا اظہار ہے، اور یہی وہ عقیدہ ہے جس پر اہلِ سنت والجماعت کا اجماع ہے۔

اہم مراجع

Sahih al-Bukhari
Sahih Muslim
Jami' at-Tirmidhi
Musnad Ahmad
Sirat Ibn Hisham
Tarikh Makkah
Akhbar Makkah
Al-Bidayah wa al-Nihayah
Al-Kamil fi al-Tarikh

حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

حصہ پنجم: حجرِ اسود کی مرمت، حفاظت اور موجودہ دور میں اس کی خدمت

اسلامی تاریخ میں حجرِ اسود کی حفاظت کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ جب بھی بیت اللہ کی مرمت یا تجدید کا کام انجام دیا گیا، حجرِ اسود کو انتہائی احتیاط اور احترام کے ساتھ محفوظ رکھا گیا۔ خلفائے راشدین، بنو امیہ، بنو عباس، ممالیک اور عثمانی سلاطین کے ادوار میں مسجدِ حرام کی متعدد مرتبہ توسیع اور مرمت ہوئی، لیکن ہر دور میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ حجرِ اسود کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔

قرامطہ کے حملے کے بعد جب حجرِ اسود دوبارہ مکہ مکرمہ لایا گیا تو اسے نہایت اہتمام کے ساتھ اس کے اصل مقام پر نصب کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں باریک دراڑیں پیدا ہوئیں۔ بعض ٹکڑے الگ ہونے لگے تو ماہرین نے انہیں محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط قدرتی مادوں کے ذریعے جوڑ دیا تاکہ اس کی اصل شکل برقرار رہے اور مزید ٹوٹ پھوٹ سے حفاظت ہو سکے۔

بعد کے زمانوں میں حجرِ اسود کے گرد چاندی کا مضبوط فریم نصب کیا گیا۔ اس فریم کا مقصد صرف خوبصورتی نہیں بلکہ حجرِ اسود کے ٹکڑوں کو مضبوطی سے محفوظ رکھنا اور زائرین کے مسلسل استلام کے باوجود انہیں محفوظ رکھنا تھا۔ مختلف ادوار میں اس چاندی کے حلقے کی بھی ضرورت کے مطابق تجدید کی جاتی رہی۔

آج جو حجرِ اسود نظر آتا ہے، وہ ایک ہی مکمل پتھر کی صورت میں نہیں بلکہ کئی چھوٹے ٹکڑوں پر مشتمل ہے، جو مضبوط مرکب مادے میں محفوظ ہیں اور ان کے گرد چاندی کا بیضوی فریم نصب ہے۔ مؤرخین کے مطابق اس کے نمایاں ٹکڑوں کی تعداد تقریباً آٹھ ہے، جبکہ کچھ نہایت چھوٹے ذرات بھی محفوظ ہیں۔ اس کی تفصیلات Tarikh Makkah، Al-Bidayah wa al-Nihayah اور بعد کے مؤرخین کی کتب میں مذکور ہیں۔

ہر سال حج اور عمرہ کے موسم میں لاکھوں مسلمان حجرِ اسود کا استلام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسجدِ حرام کی انتظامیہ زائرین کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کرتی ہے۔ ہجوم کے اوقات میں حجرِ اسود تک رسائی کو منظم کیا جاتا ہے تاکہ کسی کو دھکا نہ لگے اور نہ ہی کوئی حادثہ پیش آئے۔ علماء نے ہمیشہ یہی ہدایت دی ہے کہ اگر استلام کے دوران دوسروں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو دور سے اشارہ کرنا سنت ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے امت کو آسانی اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دی ہے۔

حجرِ اسود کی زیارت مسلمانوں کے لیے ایک عظیم روحانی سعادت ہے، لیکن اسلام نے کبھی بھی اس کے بارے میں غلو کی اجازت نہیں دی۔ اس سے برکت حاصل کرنا سنت کے مطابق ہے، مگر اس سے حاجات مانگنا، اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا یا اس کے سامنے عبادت کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ تمام عبادت صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جبکہ حجرِ اسود کا احترام رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔

آج بھی دنیا کے ہر کونے سے آنے والے مسلمان جب بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور حجرِ اسود کی طرف ہاتھ اٹھا کر "اللہ اکبر" کہتے ہیں تو گویا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت کو زندہ کرتے ہیں۔ یہی وہ تسلسل ہے جو چودہ صدیوں سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔

جاری ہے: حصہ ششم — حجرِ اسود سے متعلق مشہور غلط فہمیاں، فقہی مسائل، آدابِ استلام اور علماء کی آراء۔

حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

حصہ ششم: حجرِ اسود سے متعلق فقہی مسائل، آدابِ استلام اور مشہور غلط فہمیوں کی وضاحت

حجرِ اسود کی تاریخ جتنی قدیم اور عظیم ہے، اس سے متعلق بعض غلط فہمیاں بھی وقت کے ساتھ لوگوں میں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ علماءِ امت نے ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی اصلاح کی ہے تاکہ مسلمانوں کا عقیدہ خالص توحید پر قائم رہے۔ اسلام نے حجرِ اسود کی تعظیم کو سنت قرار دیا ہے، لیکن اس کے بارے میں غلو اور بے بنیاد عقائد سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔

فقہائے کرام لکھتے ہیں کہ طواف کا آغاز حجرِ اسود سے کرنا سنت ہے۔ اگر ممکن ہو تو زائر حجرِ اسود کے سامنے کھڑا ہو کر "بسم الله، الله أكبر" کہے، پھر اسے بوسہ دے۔ اگر بوسہ دینا ممکن نہ ہو تو ہاتھ سے اسے چھو کر اپنے ہاتھ کو بوسہ دے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دور سے اس کی طرف ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرے اور "الله أكبر" کہے۔ یہی طریقہ رسول اللہ ﷺ سے صحیح احادیث میں ثابت ہے۔ اس کی اصل روایات Sahih al-Bukhari، Sahih Muslim اور Sunan Abi Dawud میں مذکور ہیں۔

علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حجرِ اسود تک پہنچنے کے لیے کسی مسلمان کو دھکا دینا، خواتین، بزرگوں یا کمزور افراد کو تکلیف پہنچانا یا ہجوم میں خطرہ مول لینا درست نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے کہ جب ہجوم زیادہ ہوتا تو وہ دور ہی سے استلام کر لیتے تھے۔ اسی بنا پر تمام فقہی مذاہب کے علماء نے لکھا ہے کہ دور سے اشارہ کرنا بھی سنت ہے اور اسی میں آسانی ہے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حجرِ اسود بذاتِ خود مشکلات کو دور کرتا ہے یا بیماریوں کو شفا دیتا ہے۔ یہ عقیدہ درست نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ نفع و نقصان، شفا، رزق اور حاجت روائی صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ حجرِ اسود ایک مبارک پتھر ہے، اس کی تعظیم سنت ہے، لیکن اس میں کوئی ذاتی خدائی طاقت نہیں۔ اسی حقیقت کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے مشہور فرمان میں واضح کیا، جو Sahih al-Bukhari اور Sahih Muslim میں روایت ہوا ہے۔

بعض زائرین حجرِ اسود کو چھونے کے لیے غیر معمولی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے دین میں آسانی کی تعلیم دی ہے۔ اگر استلام ممکن نہ ہو تو دور سے اشارہ کر لینا مکمل سنت ہے اور اس میں کسی قسم کی کمی نہیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ ہجوم میں دوسروں کو تکلیف پہنچانا ایک گناہ ہے، جبکہ استلام ایک سنت ہے، اس لیے سنت کو ادا کرنے کے لیے گناہ کا ارتکاب جائز نہیں۔

علمائے امت نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ حجرِ اسود کا احترام دراصل بیت اللہ کے احترام کا ایک حصہ ہے۔ مسلمان جب اس کا استلام کرتے ہیں تو وہ اس نیت سے کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا تھا۔ یہی اخلاص اور اتباعِ سنت اس عمل کی اصل روح ہے۔

آج بھی مسجدِ حرام کی انتظامیہ زائرین کی سہولت اور حفاظت کے لیے حجرِ اسود کے اطراف میں خصوصی انتظامات کرتی ہے تاکہ لوگ امن، سکون اور نظم کے ساتھ طواف کر سکیں۔ لاکھوں افراد روزانہ اس مبارک مقام کی زیارت کرتے ہیں، لیکن اسلام کی اصل تعلیم یہی ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کی جائے اور ہر عمل سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو۔

یوں حجرِ اسود کی تاریخ صرف ایک مقدس پتھر کی تاریخ نہیں، بلکہ یہ توحید، اتباعِ رسول ﷺ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد، بیت اللہ کی عظمت اور امتِ مسلمہ کے روحانی تعلق کی ایک روشن داستان ہے، جو آج بھی ہر مسلمان کے دل میں ایمان اور محبت کی شمع روشن کرتی ہے۔

اہم مراجع

Sahih al-Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abi Dawud
Jami' at-Tirmidhi
Al-Majmu'
Fath al-Bari

حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

حصہ ہفتم: حجرِ اسود کے بارے میں مستشرقین کے شبہات اور ان کا علمی جواب

اسلام کے آغاز سے لے کر آج تک بعض مستشرقین اور اسلام مخالف مصنفین نے حجرِ اسود کے بارے میں مختلف شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مسلمان ایک پتھر کو بوسہ دیتے ہیں، لہٰذا وہ اس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ اعتراض نہ صرف اسلامی عقائد سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے بلکہ مستند اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

اسلام کی بنیادی تعلیم توحید ہے۔ قرآن مجید بار بار اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ عبادت، سجدہ، دعا، استعانت اور نذر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ حجرِ اسود کی تعظیم بھی اسی دائرے میں آتی ہے۔ مسلمان اسے معبود نہیں سمجھتے، نہ اس سے دعائیں مانگتے ہیں اور نہ اسے نفع و نقصان کا مالک مانتے ہیں۔ اس کا استلام صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا اور کیا۔

اس حقیقت کو سب سے واضح انداز میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا۔ جب آپ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا تو فرمایا:

> "میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔"

 

یہ روایت Sahih al-Bukhari اور Sahih Muslim میں موجود ہے۔ یہی حدیث مستشرقین کے اس اعتراض کا سب سے مضبوط جواب ہے، کیونکہ اس میں خود ایک جلیل القدر صحابی نے واضح کر دیا کہ احترام کا سبب صرف اتباعِ رسول ﷺ ہے، نہ کہ پتھر کی الوہیت یا ذاتی تاثیر۔

بعض لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ اگر حجرِ اسود ایک عام پتھر ہے تو اسے اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام میں بعض مقامات، اوقات اور اشیاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ مثلاً خانۂ کعبہ، مسجدِ نبوی، مسجدِ اقصیٰ، ماہِ رمضان، شبِ قدر اور یومِ عرفہ کی فضیلت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے۔ اسی طرح حجرِ اسود بھی ایک مبارک نشانی ہے جسے جنت سے نازل کیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کا استلام فرمایا۔

بعض مؤرخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ مختلف ادوار میں بعض غیر مسلم حکمرانوں یا دشمنوں نے حجرِ اسود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس کی حفاظت فرمائی۔ سب سے بڑا حملہ قرامطہ کے دور میں ہوا، مگر بالآخر حجرِ اسود دوبارہ اپنے اصل مقام پر واپس آ گیا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں بیت اللہ کی عظمت اور مسلمانوں کی محبت کی ایک روشن مثال ہے۔

آج دنیا کے ہر خطے سے آنے والے مسلمان، خواہ ان کی زبان، رنگ یا قومیت کچھ بھی ہو، ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرکے طواف کرتے ہیں اور حجرِ اسود کے مقام سے اپنے طواف کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ منظر امتِ مسلمہ کے اتحاد، اخوت اور توحید کا عملی مظہر ہے۔ یہاں کوئی امیر و غریب، عرب و عجم یا بادشاہ و فقیر کی تمیز نہیں رہتی، بلکہ سب ایک ہی رب کے بندے بن کر اس کے گھر کا طواف کرتے ہیں۔

علمائے اسلام نے ہمیشہ یہ تاکید کی ہے کہ حجرِ اسود کی محبت ایمان کا حصہ تو ہے، لیکن اس محبت کی بنیاد سنتِ نبوی ﷺ ہے، نہ کہ غلو یا غیر شرعی عقائد۔ اسی لیے اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ حجرِ اسود ایک عظیم اور مبارک نشانی ہے، مگر عبادت صرف اللہ وحدہٗ لا شریک لہ کی کی جائے گی۔

جاری ہے: حصہ ہشتم — حجرِ اسود کے بارے میں دلچسپ تاریخی حقائق، نادر روایات اور صدیوں پر محیط اہم واقعات۔

حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

حصہ ہشتم: حجرِ اسود سے متعلق تاریخی حقائق، نادر واقعات اور اہم معلومات

حجرِ اسود کی تاریخ صرف اس کے جنت سے نازل ہونے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں اس کی تنصیب اور رسول اللہ ﷺ کے استلام تک محدود نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط اسلامی تاریخ میں اس سے متعلق بہت سے اہم واقعات بھی محفوظ ہیں۔ ان واقعات نے اس مقدس پتھر کی عظمت اور اس سے مسلمانوں کی عقیدت کو مزید نمایاں کیا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق حجرِ اسود ابتدا میں ایک مکمل پتھر تھا، لیکن مختلف ادوار میں پیش آنے والے حادثات، خصوصاً قرامطہ کے حملے اور بعد کی بعض تاریخی آفات کے نتیجے میں اس میں دراڑیں پڑ گئیں۔ بعد میں ان ٹکڑوں کو نہایت احتیاط کے ساتھ دوبارہ جوڑا گیا۔ آج جو حصہ زائرین کو نظر آتا ہے، وہ کئی چھوٹے ٹکڑوں پر مشتمل ہے، جنہیں مضبوط مادے کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے اور ان کے گرد چاندی کا مضبوط فریم نصب ہے تاکہ وہ مزید نقصان سے محفوظ رہیں۔

بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ مختلف اسلامی ادوار میں جب مسجدِ حرام کی توسیع یا مرمت کی گئی تو حجرِ اسود کو غیر معمولی حفاظت کے ساتھ ڈھانپ دیا جاتا تھا تاکہ تعمیراتی کام کے دوران اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ اس کی نگرانی ایسے افراد کے سپرد کی جاتی تھی جو اپنی دیانت، امانت اور مہارت کے لیے مشہور ہوتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں مسلمانوں نے حجرِ اسود کی حفاظت کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھا۔

اسلامی تاریخ میں کئی عظیم علماء، محدثین، فقہاء اور سلاطین نے حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کی اور حجرِ اسود کا استلام کیا۔ Imam Malik، Imam al-Shafi'i، Imam Ahmad ibn Hanbal اور Imam al-Nawawi جیسے جلیل القدر علماء نے بھی اپنے حج کے واقعات میں حجرِ اسود کے احترام اور سنت کے مطابق استلام کا ذکر کیا ہے۔

فقہائے امت نے اس بات پر ہمیشہ زور دیا ہے کہ حجرِ اسود کا استلام محبت اور ادب کے ساتھ کیا جائے۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو دوسروں کو دھکا دینا، بلند آواز میں شور مچانا یا کسی کو تکلیف پہنچانا خلافِ سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم یہی ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے لیے آسانی پیدا کرے، نہ کہ اسے مشقت میں ڈالے۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ چودہ صدیوں سے ہر دور کے مسلمان، خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک، نسل یا زبان سے ہو، ایک ہی مقام سے اپنے طواف کا آغاز کرتے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی اور ایسا مذہبی نشان ہو جس کے ساتھ اتنی طویل اور مسلسل تاریخی وابستگی قائم رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حجرِ اسود مسلمانوں کے درمیان وحدت، اخوت اور اتباعِ سنت کی علامت بن چکا ہے۔

بعض لوگ حجرِ اسود کی جسامت یا اس کے اصل حجم کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ مؤرخین کے مطابق موجودہ نظر آنے والا حصہ اصل پتھر کا صرف نمایاں حصہ ہے، جبکہ اس کا کچھ حصہ چاندی کے فریم اور حفاظتی مواد کے اندر محفوظ ہے۔ اس کی درست پیمائش کے بارے میں قدیم کتب میں مختلف اقوال ملتے ہیں، اس لیے کسی ایک عدد کو قطعی طور پر بیان نہیں کیا جاتا۔

حجرِ اسود کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام میں مقدس چیزوں کا احترام ضرور کیا جاتا ہے، مگر ہر حال میں عقیدۂ توحید کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی تعظیم کی، لیکن کبھی بھی اسے عبادت کا مستحق قرار نہیں دیا۔

اس طرح حجرِ اسود آج بھی بیت اللہ کی زینت، سنتِ ابراہیمی کی یادگار، سنتِ نبوی ﷺ کی علامت اور کروڑوں مسلمانوں کے ایمان و محبت کا مرکز ہے۔

اہم مراجع:

Sahih al-Bukhari
Sahih Muslim
Tarikh Makkah
Akhbar Makkah
Al-Bidayah wa al-Nihayah
Al-Kamil fi al-Tarikh


جاری ہے: حصہ نہم — حجرِ اسود سے متعلق احادیث، صحابۂ کرام کے اقوال اور سلفِ صالحین کے واقعات۔

حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

حصہ نہم: حجرِ اسود سے متعلق احادیث، آثارِ صحابہ اور سلفِ صالحین کے اقوال

حجرِ اسود کی فضیلت صرف تاریخی روایات سے ہی ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے بارے میں متعدد صحیح احادیث بھی موجود ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اس کا استلام فرمایا، اسے بوسہ دیا اور امت کو بھی اسی سنت پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیوں سے مسلمان اسی طریقے پر عمل کرتے چلے آ رہے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حجرِ اسود جنت سے نازل ہوا تھا۔ وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔" یہ حدیث Jami' at-Tirmidhi، Musnad Ahmad اور دیگر کتبِ حدیث میں مروی ہے۔ اس حدیث سے حجرِ اسود کی آسمانی اصل اور اس کی عظمت واضح ہوتی ہے۔

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن حجرِ اسود کو اللہ تعالیٰ ایسی قوت عطا فرمائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا، اور وہ ان لوگوں کے حق میں گواہی دے گا جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اس کا استلام کیا ہوگا۔ یہ روایت Jami' at-Tirmidhi میں موجود ہے۔ محدثین نے اس حدیث سے یہ استنباط کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہے، قیامت کے دن گواہی دینے کی قدرت عطا فرما سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ جب طواف فرماتے تو ہر چکر کے آغاز میں حجرِ اسود کا استلام کرتے۔ اگر آسانی سے رسائی ہوتی تو اسے بوسہ دیتے، ورنہ اپنے عصا یا ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور "اللہ اکبر" کہتے۔ یہ عمل Sahih al-Bukhari اور Sahih Muslim میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مشہور فرمان اسلامی عقیدے کی بہترین وضاحت کرتا ہے۔ آپ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا:

> "میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔"

 

یہ روایت Sahih al-Bukhari اور Sahih Muslim میں موجود ہے اور عقیدۂ توحید کی نہایت واضح دلیل ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حجرِ اسود کے استلام کا خاص اہتمام کرتے تھے، لیکن اگر ہجوم زیادہ ہوتا تو لوگوں کو تکلیف دینے سے اجتناب کرتے۔ سلفِ صالحین نے بھی یہی تعلیم دی کہ سنت پر عمل ضرور کیا جائے، مگر مسلمانوں کو ایذا پہنچانا جائز نہیں۔

Imam al-Nawawi نے اپنی شرح میں لکھا ہے کہ حجرِ اسود کو بوسہ دینا سنتِ مؤکدہ ہے، لیکن اگر اس تک پہنچنے میں شدید ہجوم ہو تو دور سے اشارہ کرنا ہی افضل ہے۔ اسی طرح Ibn Hajar al-Asqalani نے Fath al-Bari میں اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ سنت پر عمل ہمیشہ حکمت، وقار اور حسنِ اخلاق کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ائمۂ اربعہ کا بھی یہی موقف ہے کہ استلام سنت ہے، فرض یا واجب نہیں۔ اگر کوئی شخص ہجوم کی وجہ سے حجرِ اسود تک نہ پہنچ سکے اور صرف دور سے اشارہ کر دے تو اس کا طواف مکمل اور درست ہے، اور اس پر کوئی گناہ یا کمی نہیں۔

حجرِ اسود سے متعلق یہ تمام احادیث اور آثار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اس کا احترام ایمان، محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کا اظہار ہے، نہ کہ کسی قسم کی عبادت۔ اسلام نے ہمیشہ عقیدۂ توحید کو ہر چیز پر مقدم رکھا ہے اور حجرِ اسود کی تعظیم بھی اسی عقیدے کے تابع ہے۔

اس طرح حجرِ اسود کی تاریخ صرف ایک تاریخی روایت نہیں بلکہ قرآن، سنت، آثارِ صحابہ اور امت کے مسلسل عمل سے ثابت ہونے والی ایک روشن اور مستند اسلامی روایت ہے۔

جاری ہے: حصہ دہم (آخری حصہ) — حجرِ اسود کا خلاصہ، اس سے حاصل ہونے والے اسباق اور اختتامی کلمات۔

حجرِ اسود کی مکمل تاریخ

حصہ دہم (اختتامی حصہ): حجرِ اسود سے حاصل ہونے والے اسباق اور تاریخی خلاصہ

حجرِ اسود کی تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک مقدس پتھر کی تاریخ نہیں بلکہ توحید، نبوت، اتباعِ سنت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کی تاریخ بھی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر کی اور حجرِ اسود کو اس کے مشرقی کونے میں نصب فرمایا۔ اس کے بعد صدیوں تک یہ مبارک پتھر خانۂ کعبہ کی زینت اور اللہ تعالیٰ کی نشانی بنا رہا۔

جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے قریش نے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی تو حجرِ اسود کی تنصیب پر قبائل کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کے ذریعے اس اختلاف کو نہایت حکمت کے ساتھ ختم فرمایا۔ آپ ﷺ نے تمام قبائل کو اس سعادت میں شریک کیا اور اپنے دستِ مبارک سے حجرِ اسود کو اس کی جگہ پر نصب فرمایا۔ اس واقعے نے آپ ﷺ کی دیانت، حکمت اور غیر معمولی قیادت کو پوری قوم کے سامنے نمایاں کر دیا۔

نبوت کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ نے حجرِ اسود کا استلام فرمایا، اسے بوسہ دیا اور امت کو بھی یہی سنت سکھائی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی سنت پر عمل کیا، تابعین اور تبع تابعین نے بھی اسے زندہ رکھا، اور آج بھی دنیا کے ہر گوشے سے آنے والے مسلمان اسی سنت پر عمل کرتے ہیں۔

تاریخ میں بعض آزمائشیں بھی آئیں۔ قرامطہ کے حملے میں حجرِ اسود کو بیت اللہ سے نکال کر بحرین لے جایا گیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے دوبارہ اس کے اصل مقام پر واپس پہنچا دیا۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کسی ظاہری رکاوٹ سے ختم نہیں ہو سکتی۔

حجرِ اسود کی تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اسلام میں مقدس چیزوں کا احترام ضرور کیا جاتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کی جاتی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان اسی حقیقت کی بہترین وضاحت کرتا ہے کہ حجرِ اسود نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان، بلکہ اس کا استلام صرف رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی میں کیا جاتا ہے۔ یہی عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے۔

اس تاریخ سے ایک اور اہم سبق یہ ملتا ہے کہ مسلمان کو ہر حال میں سنتِ نبوی ﷺ کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اگر حجرِ اسود تک پہنچنا آسان ہو تو اس کا استلام کرنا سنت ہے، لیکن اگر ہجوم ہو اور دوسروں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو دور سے اشارہ کرنا ہی رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے مطابق بہتر ہے۔ اسلام عبادت کے ساتھ حسنِ اخلاق اور دوسروں کے حقوق کا بھی اتنا ہی خیال رکھتا ہے۔

حجرِ اسود پوری امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد کی علامت بھی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی مقام سے اپنے طواف کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ اسلام نے تمام مسلمانوں کو ایک امت بنایا ہے اور ان کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ کا گھر، بیت اللہ شریف ہے۔

آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ حجرِ اسود کی تعظیم کا مقصد کسی پتھر کی پرستش نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی ہے۔ یہی وہ اعتدال ہے جس نے اسلام کو ہر قسم کے شرک اور غلو سے محفوظ رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ، خالص توحید، محبتِ رسول ﷺ اور سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں بار بار بیت اللہ شریف کی حاضری، حجرِ اسود کے استلام اور مقبول حج و عمرہ کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔

اہم مراجع

The Holy Quran
Sahih al-Bukhari
Sahih Muslim
Jami' at-Tirmidhi
Musnad Ahmad
Sirat Ibn Hisham
Tarikh Makkah
Akhbar Makkah
Al-Bidayah wa al-Nihayah
Al-Kamil fi al-Tarikh